لاہور موٹروے پر جو واقعہ ہوا اگر اسے صرف ذیادتی کا نام دیکر دیکھا جائے تو جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا افسوس ناک ہے، باعثِ شرم ہے لیکن اگر جذباتی رویہ اپنانے کی بجائے ذرا دھیان سے سوچیں تو اس واقعے میں کئی جھول جھال نظر آئیں گے
لاہور موٹروے پر جو واقعہ ہوا اگر اسے صرف ذیادتی کا نام دیکر دیکھا جائے تو جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا
افسوس ناک ہے، باعثِ شرم ہے لیکن اگر جذباتی رویہ اپنانے کی بجائے ذرا دھیان سے سوچیں تو اس واقعے میں کئی جھول جھال نظر آئیں گے
بچوں اور دیگر ذیادتی کے واقعات سننے کے بعد دل بہت بوجھل رہتا ہے مگر اس واقعے کے بعد اللہ جانے دل میں پہلا گمان ہی یہی آیا کہ یہ واقعہ کچھ اور ہی ہے، کسی انڈین فلم سے ماخوذ لگنے لگا.
ذرا غور کیجیے کہ ایک تو جیسے ہی آئی جی اور سی پی او لاہور تبدیل ہوتے ہیں جنہیں پٹواری طبقہ اپنا دشمن کہتا ہے بلکہ انکے خلاف عدالت پہنچا ہوے ہیں کہ ان کی تقرریاں روکی جائیں
اس کے اگلے ہی دن ایک عورت فرانس سے آتی ہے اور فوراً اس کا ریپ ہوجاتا ہے اگر ہم اسے دوسرے پہلو سے دیکھیں کہ فرانس سے ہی آئی خاتون کیوں؟
تو بہترین جواز موجود ہے کہ فرانس سے آئی تھیں انہیں علم نہیں تھا کہ اکیلے سفر نہ کریں رات کو، اگر خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کسی پاکستانی خاتون کے ساتھ ہوتا تو میڈیا اور چیخنے چلانے والے ایسے ہی بھول جاتے جیسے پہلے واقعات کو بھول گئے ہیں
اور سب نے یہی کہنا تھا کہ پاکستان میں رہتی ہیں آپکو کس نے کہا کہ اکیلے سفر کریں آپکے شوہر، بھائی، باپ فلاں فلاں کہاں تھے؟
سارا پاکستانی میڈیا شور مچانا شروع ہوگیا تھا کہ ریپ ریپ ریپ ریپ جبکہ ابھی پوری طرح تحقیقات ہونا باقی تھی
جو رپورٹس اور ایف آئی آر ہیں خود انہی میں ہی جُھول ہیں، جس کے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے خود اس کی باتیں ہی مشکوک ہیں اس کا علم ہی نہیں کون ہے؟ گھر شوہر کچھ بھی علم نہیں، مقام بھی وہی جہاں سے فینسنگ ٹوٹی ہے
یعنی ڈاکوؤں کو علم تھا عین اسی جگہ گاڑی کا پٹرول ختم ہونا ہے، اوپر سے میڈیا کا شور اور گھنٹوں کے بحث مباحثے سن کر لگتا ہے کہ جیسے یہ پہلا واقعہ ہوا ہو حالانکہ یہی میڈیا اور جو دیگر مخلوقات اس واقعے پہ گلے پھاڑ پھاڑ چیخ رہے ہیں وہ بچوں بچیوں اور خواتین سے ذیادتی کے واقعات پہ گہری چپی سادھے نظر آتے ہیں.
دوسری بات یہ ہے کہ شیری مزاری جیسی لبرل بھی اس واقعے پہ بول اٹھی ہیں اور فوراً سی پی او کے بیان کو ایک غلط رنگ دیکر تنقید شروع کر دی یہ وہی شیریں مزاری ہے جو پاکستان میں بچوں، بچیوں اور خواتین سے ذیادتی پہ سزائے موت کی سخت مخالف ہے
یہاں تک کہ انکو لگتا ہے کہ یہ سزائیں انسانیت کے خلاف ہیں. اس کے علاوہ آپکو موم بتی مافیا، لبرل انکل، آنٹیز اس واقعے پہ چیختے نظر آ رہے ہیں جو بچوں سے ذیادتی پہ خاموش رہتے
ہیں اب خود سوچیں کیا چل رہا ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ وقت بعد اس خاتون کو دوبارہ فرانس لے جا کر پاکستان کے خلاف مہرہ بنا دیا جائے گا جیسے ملالہ کو استعمال کیا جا رہا ہے
پھر شاید کوئی سیاسی پناہ، کوئی نئی ایکٹویسٹ، پاکستان کو غیرمحفوظ قرار دلوانے کا کھیل...
پی پی پی جسے میں ڈارک ویب پارٹی سمجھتا ہوں جب بھی بچوں سے ذیادتی پہ سزاؤں کی بات ہوئی پی پی پی نے مخالفت کردی اس واقعے سے ایک دن قبل ہی پی پی پی اسمبلی میں ذیادتی کے مجرموں کو سزائے موت کی مخالف کرکے اٹھی تھی
پی پی پی کے بہت سے چیلے بچوں سے ذیادتی کے جرائم میں ملوث ہیں، ابھی چند ہفتے قبل کی بات پے جو ایک استاد سارنگ نامی پکڑا گیا اس شخص نے 138 بچوں سے ذیادتی کا اعتراف کیا مگر پی پی پی کا سپورٹر اور اس کا بھائی پی پی پی قیادت کے قریبی ہونے کی وجہ سے سارنگ کا کوئی بال بھی بھیگا نہیں کرسکا
، اس واقعے کے علاوہ پاکستان میں ذیادتی کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں مگر پی پی پی نے کبھی اس پہ بات کرنا تک گوارہ نہیں کیا لیکن فرانس سے آئی ایک خاتون پہ پی پی پی کا دل پسیج گیا اور پی پی پی بھی ان کے لیے میدان میں آگئی.
ڈارک سے جڑا دوسرا طبقہ ن لیگ جن کے اپنے کئی ایم این اے، ایم پی اے بچوں اور خواتین سے ذیادتی کے واقعات سے لت پت ہیں، کبھی انکے لیڈران اور چیلے اتنا نہیں چیخے جتنا اب چیخ رہے ہیں خاص کر نئے سی پی او کے خلاف جن کے خلاف ایک دن پہلے ن لیگ عدالت گئی کہ ان کی تقرریاں روکی جائیں اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اس واقعے پہ سیاست شروع ہوگئی تو دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے.
اگلی بات کہ ڈاکو گاڑی اور پیسے چھوڑ گئے مگر ذیادتی کرکے چلتے بنے، کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، ڈاکوؤں کو خبر تھی کہ ایک فرانس سے آئی ہوئی خاتون اس جگہ سے گزریں گی اور پٹرول ختم ہوگا تو ادھر ہی رکیں گی، ڈاکو الرٹ کھڑے تھے
دوسری بات کہ خدانخواستہ جب مجھے کوئی مشکل پیش آئے گی تو میں اپنے قریب سے قریب تر موجود رشتہ دار کو مدد کے لیے بلاؤں گا نہ کہ کسی دور کے رشتہ دار کو، اسی سے ہی بدبو سی آرہی ہے کہ خاتون اتنی دور کے رشتہ دار کو بلا رہی ہیں تو مطلب انتظار کیا جا رہا تھا کہ سارا کام پورا ہو
اب یہ سوال جب سامنے آیا کہ کیا ڈاکو الرٹ کھڑے تھے تو پینترا بدل دیا گیا اور پولیس کو مشکوک کرنے کے لیے کہا گیا کہ 15 کو مدد کے لیے بلایا اسکے بعد یہ واقعہ پیش آیا یعنی پولیس کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پولیس کی مدد سے یا پولیس سے ہی ڈاکوؤں کو خبر ملی اور عین اسی جگہ ڈاکو پہنچ گئے.
اس واقعے کے بعد کچھ بیووقوں نے انٹرنیشنل میڈیا کا نام دیکر بنگلہ دیش کے 24 اکتوبر 2019 کے 16 ریپسٹ کو سزائے موت کے فیصلہ کو گزشتہ دنوں کا فیصلہ بتا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جج ایسے منہ اٹھا کر کسی بھی ملک پہ اگلی نہیں اٹھا سکتا اگر فرض کریں جج کسی ملک کو نام لیتا تو بھارت کا نام لیتا جسے دنیا ریپستان کہتی ہے. جج کے ریمارکس تھے کہ یہ بنگلہ دیش ہے یہاں اس جرم کے خلاف سخت قانون موجود ہے.
یہ سارا کھیل دنیا میں دن بہ دن پاکستان کی بہتر ہوتی امیج اور پاکستان کے حوالے دنیا کے بہتر ہوتے رویے کو نقصان پہنچانے کے لیے، پاکستان میں الحمدللہ آج تک سینکڑوں غیرملکی خواتین اکیلے سفر کرچکی ہیں جن کی ویڈیوز دنیا دیکھ چکی ہے.ایسے میں دنیا کو پاکستان کا یہ مثبت پہلو کہاں سے پسند آتا، خاص کر ہمارے پڑوسی بھارت کو جو ریپستان کے نام سے مشہور ہے
دوسری جانب آج وہی لوگ ہی اس واقعے کو اچھال رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان سے ذیادہ بھارت کے مفادات کو ترجیح دی.
جنہوں نے پاکستان کو بھارت کی ایماء پہ دہشتگرد کہا، بھارت کی ایماء پر پاکستان میں ڈیموں کے خلاف کمپین چلائی، بھارت میں بچوں سے ذیادتی کے واقعات بڑھے تو پاکستان میں بھی تیزی آئی، بھارت میں خواتین سے ذیادتی کے واقعات عروج پہ پہنچے تو پاکستان میں بھی تیزی آئی، بھارت کو غیرملکی خواتین کے لیے غیر محفوظ سمجھا جانے لگا تو پاکستان ایک جنت ثابت ہوا مگر اس پاکستان کو بدنام کیا جانا تھا اور ان ساری باتوں کے پیچھے وہی مافیا ہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے بھارت ذیادہ اہم ہے. یہ بات اس واقعے کو متنازعہ بنا رہے ہیں.
اب حکومت کو چاہیے کہ اس واقعے میں ملوث کرداروں کو تلاش کرکے نشانِ عبرت بنا دیا جائے. قانون سازی کی جائے ایسے واقعات کے لیے ایک الگ سے ٹاسک فورس قائم کی جائے جو وفاق کے زیرِ نگرانی پورے پاکستان میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے کام کرے، جیلوں میں موجود ایسے واقعات میں ملوث مجرمان کو فوری طور پہ نشانِ عبرت بنایا جائے. پاکستان دشمن ایسے واقعات کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے جو بدنامی کا باعث بنے گا.
نوٹ: یہ میری ذاتی رائے ہے آپ کا مجھ سے متفق ہونا ضروری نہیں. شکریہ
تحریر:sk news

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.