Skip to main content

شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے کس نے روکا ؟حیران کن خبر آگئی ..........

شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے کس نے روکا ؟حیران کن خبر آگئی

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن )   آج کورونا وائرس سے متعلق قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب   اختلاف شہباز شریف  دونوں ہی موجود نہ تھے ، شہباز شریف کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آگئی ۔مائیکرو بلاگنگ ویب  سائٹ ٹوئٹر  پر صحافی ارشد وحید چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ,  کی ڈاکٹر نےاپوزیشن لیڈر کو اجلاس  میں شرکت کرنے سے  سختی سے منع کیا ہے۔شہباز شریف کے نام ڈاکٹر کی جانب سے جاری کیے گئے  ہدایت نامے میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے , ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ” میرے علم میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں آپ کی شرکت معنی رکھتی ہے , لیکن آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کریں۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ , جیسا کہ آپ کو پتا ہے , کہ آپ کی عمر پچاس سال سے زائد ہے اور آپ کینسر کے مریض ہیں۔ لہٰذا آپ کی قوت مدافت اتنی مضبوط نہیں کہ آپ کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس وقت کرو نا کی وبا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس میں 50 سال سے زائد عمر کے افراد متاثر ہوکر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔ ہدایت نامے میں شہباز شریف کو ہدایت کی گئی کہ میں آپ کا ذاتی معالج ہونے کی بنا پر کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال  میں قومی اسمبلی کے  اجلاس میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ لہذا آپ کا بھی فرض ہے کہ میرے دیے گئے ہدایت نامے پر عمل درآمد کرتے ہوئے , قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ; نہ کریں۔
دباؤ ڈال کر قومی اسمبلی اجلاس کی طلبی کے بعد ڈاکٹر کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اجلاس میں سختی سے شرکت نہ کرنے کی ہدایت
پارٹی نے صدر کو اجلاس میں شرکت سے روک دیا 😊
تصویر ٹوئٹر پر دیکھیںتصویر ٹوئٹر پر دیکھیں

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...