خیبر پختونخوا حکومت نے; سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراوں کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کر دیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے; خواجہ سراوں کے لیے پالیسی تیار کر لی گئی ہے . جس کے مطابق خواجہ سراوں ;;کو ووٹ ڈالنے، انتخاب لڑنے اور پبلک آفس رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔ نجی نیوز چینل جیو کے مطابق خواجہ سراوں کو روزگاری انشورنس، ہیلتھ انشورنس اور ہارڈشپ گرانٹ دی جائے گی جب کہ 50 سال سے زیادہ عمر کے ; بیروزگار خواجہ سراوں کو ماہانہ 2 سے 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا منصوبہ بھی تیار کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق محکمہ تعلیم اور صنعت ڈویڑنل; ہیڈ کواٹر کی سطح پر خواجہ سراوں کے لیے الگ سکولز اور ووکیشنل ;سینٹرز قائم کیے جائیں گے. جب کہ تعلیم حاصل کرنے والے خواجہ سراوں کے لیے سکولز اور ووکیشنل سینٹرز میں ایک فیصد نشستیں مختص ہوں گی۔خواجہ سراوں سے متعلق نئی پالیسی کے مطابق خواجہ سراوں کوسکالرشپ میں 5 فیصد کوٹہ دیا جائے گا . جب کہ سرکاری ; ہاوسنگ سکیموں میں بھی خواجہ سراوں کے لیے کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔ مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔ گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے جسم ا...

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.