اکثر میں اور میرا دوست گوجرخان کے قریب واقع النور ریسٹورنٹ پر چائے پینے جایا کرتے ہیں۔
یہ ہوٹل شہر سے تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے نہایت پر سکون ماحول کم بھیڑ والا اور کھانے پینے کے لحاظ سے بھی اچھا ہے
۔ایک شام عجیب واقعہ پیش آیا ہم نے وہاں چائے پی پیسے دے کر اٹھے ہی تھے
کہ پیسوں کی گنتی کے بعد ویٹر کو واپس بلانا پڑا۔دراصل اس دن ویٹر نے دو کپ چائے کی جگہ چار کپ کے پیسے رکھ لیئے تھے
جب ویٹر سے اس کی وجہ پوچھی تو وہ انتہائی نفیس لہجے میں کہنے لگا"جناب آپ کچھ دن پہلے یہاں سے چائے پی کر گئے ہیں۔شاید جلدی میں آپ بل دینا بھول گئے۔
آپ کے اردگرد لوگ بیٹھے تھے میں نے آواز دینا مناسب نہ سمجھا کہ کہیں آپ اپنی بےعزتی محسوس نہ کریں۔آپ کا بل میں نے اپنی جیب سے ادا کر دیا تھا"
بس اس کا اتنا کہنا تھا کہ مجھے مولا علی علیہ السلام کا فرمان یاد
آگیا.
کہ.
"انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔
اس کا اتنا ہی جواب کافی تھا
اسے اب اپنے باپ دادا کا تعارف کروانے یا کئی گز لمبا شجرہ دکھانے کی ضرورت نہیں تھی۔اس کے جواب میں بہت کچھ چھپا ہوا تھا ہو سکتا ہے میں یہاں وہ سب بیان نہ کر سکوں۔پہلی بات میں اور میرا دوست زیادہ مہنگے کپڑے نہیں پہنتے اکثر چاے پینے کام والے کپڑے ہی پہنے چلے جاتے ہیں
لیکن اس کے باوجود اس نے ہماری عزت_نفس کو مجروح نہ ہونے دیا۔وہ خود ایک غریب لڑکا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنی جیب سے ادائیگی کر چکا تھا
۔اس کا احساس بتا رہا تھا کہ والدین نے اسے
لقمہء حرام سے دور رکھا
اس کی تربیت کرنے والی کوئی عظیم خاتون ھے۔
ایسے معاشرے میں وہ ہمارا احساس کر رہا تھا جہاں صرف اچھے کپڑوں یا پیسے کی عزت ہے۔باپ دادا کی بوسیدہ ہڈیوں پر فخر کرنے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں
جہاں لوگ مذہب کو ڈھال بناتے ہیں کئی دفعہ تو مریض لے جانے والی گاڑی سے منشیات پکڑے جانے کی خبریں گردش کرتی ہیں۔
ھم لوگ اسکا شکریہ ادا کر کے وھاں سے نکل پڑے..
گھر پہنچنے تک سوچتا رہا اور اس سارے واقعہ سے یہی نتیجہ اخد کیا..
کہ...
"شاید ایسے چند لوگوں کی وجہ سے ہی ہم عذاب عظیم سے بچے ھوے بیشمار رحمتوں اور برکتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں"
I

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.