Skip to main content

40 سال سے خالی گھر، بالآخر کھولا گیا جگہ جگہ گڑیائیں پڑی تھیں، انتہائی پراسرار کہانی ......

40 سال سے خالی گھر، بالآخر کھولا گیا جگہ جگہ گڑیائیں پڑی تھیں، انتہائی پراسرار کہانی

 برطانیہ میں آنجہانی ہندوستانی کاروباری شخص کا 40سال سے   بند پڑا گھرایک پھر دریافت کر لیا گیا ہے , اور جب گھر دریافت کرنے والے اس کے اندر گئے تو ایسا منظر دیکھا کہ , آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔   ڈیلی سٹار کے مطابق یہ ہندوستانی شخصیت سر دھون جی بھوئے تھے , جو اپنی اہلیہ لیڈی بھومانجی کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں برطانیہ کے علاقے نارتھ یارک شائر میں ہیروگیٹ کے قریب واقع اس عالیشان محل نما گھر میں گزارتے تھے ۔ سر دھون جی اور ان کی اہلیہ 1920ءکی دہائی میں اس گھر کو استعمال کرتے رہے  ۔ اس وقت ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا۔
سر دھون جی اور لیڈی بھومانجی کے برطانیہ اشرافیہ بشمول شاہی خاندان کے ساتھ قریبی مراسم تھے اور وہ بہت اثر و رسوخ کے  مالک تھے۔ وہ ہر سال گرمیوں میں 40کمروں پر مشتمل اس عالیشان گھر میں آ کر رہائش پذیر ہوتے   ۔ تاہم ان کی موت کے بعد یہ گھر ویران ہو گیا اور گزشتہ 40سال سے    بند پڑا تھا۔گزشتہ دنوں ایسے تج دیئے گئے گھروں کی   تلاش کے شوقین کچھ لوگ اس گھر تک پہنچ گئے اور اس کے اندر داخل ہو گئے۔
اندر جاکر ان لوگوں نے کیا دیکھا کہ گھر کے کمروں میں گڑیائیں ہی گڑیائیں بھری پڑی تھی اور گل سڑ رہی تھیں۔ دیواروں پر اب بھی 1920ءکی دہائی کے وال پیپر لگے ہوئے تھے۔ دیگر سازوسامان بھی اسی 100سال قبل کے;  دور کا تھا، حتیٰ کہ گھر میں پڑی میزوں کی درازوں سے بھی 100سال پرانے اخبارات برآمد ہوئے,    جو بہت خستہ حال ہو چکے تھے۔کمروں کی چھتوں سے انتہائی عمدہ فانوس لٹک رہے تھے تاہم چالیس سال سے گھر بند رہنے کی وجہ سے ان کی حالت ناگفتہ بہ ہوچکی تھی۔ کئی کمروں کی دیواروں پرگھر کے مالکان سر , دھون جی اور لیڈی بھومانجی کے ساتھ ساتھ ملکہ برطانیہ کی تصویر بھی لگی ہوئی تھیں۔گھر کے باتھ رومز، شاور حتیٰ کہ ایک اک چیز اسی زمانے کی تھی۔   واضح رہے کہ سر دھون جی یکم اپریل 1937ءکو انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے آخری بار 1936ءمیں اس گھر میں قیام کیا۔ ان کے بعد لیڈی بھومانجی اکیلی گھر میں آتی رہی۔ ان کا انتقال 1986ءمیں ہوا اور تب سے یہ گھر لاوارث پڑا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔