Skip to main content

پیسے نہ دینے کا الزام، سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد بالآخر جویریہ سعود نے بھی جواب دے دیا...........

پیسے نہ دینے کا الزام، سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد بالآخر جویریہ سعود نے بھی جواب دے دیا



 گزشتہ ہفتے اداکارہ سلمیٰ ظفر نے اداکار سعود اور ان کی اہلیہ جویریہ سعود پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے پروڈکشن ہاﺅس کے ساتھ کام کرنے والے اداکاروں کا مالی استحصال کرتے ہیں  ۔ اب اس الزام کے جواب کے ساتھ جویریہ سعود بھی سامنے آ گئی ہیں۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق سلمیٰ ظفر نے کہا تھا کہ ”میں نے کئی سال سعود اور , جویریہ کے پروڈکشن ہاﺅس کے ساتھ کام کیا، جس کا معاوضہ انہوں نے آج تک مجھے نہیں دیا۔ “ سلمیٰ ظفر کے اس الزام کے   بعد انٹرنیٹ پر صارفین نے سعود اور جویریہ کو کڑی   تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور ان کی سوشل میڈیا پوسٹس پر کمنٹس,  میں انہیں ’چور‘ اور ’گھٹیا‘ سمیت   نجانے کیا کچھ کہنے لگے۔
اس تنقید کے بعد جویریہ سعودنے کہا ہے کہ ”ہم نے سلمیٰ ظفر کو تمام ادائیگی پیشگی کر دی تھی , اور اس کا ایک روپیہ بھی ہم پر واجب الادا نہیں ہے۔    اگر ہم نے اسے رقم ادا نہیں کی ہوتی تو اسے ہمارے پراجیکٹس بہت پہلے چھوڑ دینے چاہئیں تھے، حالانکہ اس نے ہمارے ساتھ 7سال تک کام کیا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ سلمیٰ ظفر نے ہمیں ایک کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کو کہا تھا ,  جس سے ہم نے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے اپنی الزامات پر مبنی ویڈیو پوسٹ کر دی۔ میرے;  ماں باپ نے میری جو تربیت کی ہے , وہ مجھے کسی پر الزام لگانے کی اجازت نہیں دیتی، چنانچہ میں سلمیٰ ظفر کے الزامات کے جواب   میں اس سے   زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی۔“

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔