Skip to main content

وہ ویب سائٹ جہاں پر نوجوان لڑکیاں اپنے جسم فروخت کرتی ہیں، انتہائی افسوسناک حقیقت سامنے آگئی..........

وہ ویب سائٹ جہاں پر نوجوان لڑکیاں اپنے جسم فروخت کرتی ہیں، انتہائی افسوسناک حقیقت سامنے آگئی


 ’اونلی فینز‘   (OnlyFans)  نامی ویب سائٹ بنانے کا مقصد تو ویب سائٹ انتظامیہ کے بقول کچھ اور تھا لیکن اب اس ویب سائٹ کے ذریعے نوعمر لڑکیاں اپنا جسم فروخت کر رہی ہیں اور اس کے ذریعے آمدنی کمانے کی کوشش کر رہی ہیں  ، جن کا خیال ہے کہ اس ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ان کی برہنہ اور نیم برہنہ تصاویر اور ویڈیوز محفوظ ہیں لیکن اب اس حوالے سے تشویشناک انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اونلی فینز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ , یہ ویب سائٹ اداکاروں، گلوکاروں اور دیگر فنون میں مہارت رکھنے   والوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ   , اگر لوگ ان فنکاروں   کے واقعی فین ہیں , تو ان کا کام دیکھنے کے عوض ماہانہ فیس ادا کریں۔ تاہم اب اس ویب سائٹ پر لڑکیاں اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی پوسٹ کر رہی ہیں اور رقم کما رہی ہیں۔
ان لڑکیوں کے پوسٹ کیے گئے مواد کے بارے میں ’ناٹ یور پورن‘ نامی کیمپین گروپ کی بانی کیٹ ایساکس کا کہنا ہے کہ , ”لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر اونلی فینز سے لیک ہو کر فحش فلموں کی ویب ; سائٹس پر پوسٹ ہو رہی ہیں۔ فی الحال یہ لڑکیاں اس ویب سائٹ کو آمدنی کا آسان ذریعہ سمجھ رہی ہیں لیکن مستقبل میں یہ کام ان کے لیے بھیانک خواب ثابت ہو سکتا ہے  , کیونکہ ان کا لیک ہو کر فحش ویب سائٹس پر پوسٹ ہونے والا مواد ہٹایا جانا لگ بھگ ن, اممکن ہے اور تمام عمر کے لیے ان کے لیے شرمندگی کا سبب بنے گا۔ فحش فلموں کی ویب سائٹ ’پورن حب‘ نے تو ’ویڈیوز لیکڈ فرام اونلی فینز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی بنا دی ہے۔ رواں سال میں اب تک اونلی فینز سے لڑکیوں کی30لاکھ تصاویر اور 750گھنٹے دورانیے کی ایچ ڈی ویڈیوز لیک ہو کر فحش فلموں کی ویب سائٹس پر پوسٹ ہو چکی ہیں۔ جو لڑکیاں اس ویب سائٹ ; کو محفوظ  سمجھ کر سائن اپ کر رہی ہیں، ان اس کے انجام کے متعلق پہلے سوچ لینا چاہیے۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز اونلی فینز پر ; قطعی محفوظ نہیں ہیں۔“

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔