مسلسل لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں,عوام کورونا سے نہیں بھوک سے مر رہی ہے،سندھ سے بڑی آواز بلند ہو گئی ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ڈرامے باز اور بھاشن باز ہیں،وفاقی حکومت ن آج کی تاریخ تک ملک بھر میں 54 لاکھ خاندانوں میں 65 ارب روپے تقسیم کئے جبکہ سندھ حکومت نے عوام کو راشن کے بجائے صرف بھاشن دیئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ
سندھ کی عوام کو وفاقی حکومت نے 22 ارب روپے تقسیم کرچکی ہے جبکہ امداد کا مزید سلسلہ بھی جاری ہے،وفاقی حکومت نے عوام کو راشن تقسیم کرنے کا پروگرام بھی شروع کیا ہے،وزیر اعلی سندھ کو غریب کا احساس ہی نہیں ہے، ان کے مشیروں اور وزیروں کے تو پیٹ بھرے ہوئے ہیں،عوام سے پوچھیں کیا ضرورت ہے،سندھ حکومت نے تو راشن ایسے تقسیم کیا ایک ہاتھ سے دیا دوسرے ہاتھ کو پتا ہی نہ لگا،سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور اپنے ووٹرز کا بھی ان کو خیال نہیں،وفاقی حکومت نے عوام کو راشن تقسیم کرنے کا پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ اس وقت کرونا کی وبا کی وجہ سے ملک میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ ایسے حالات ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم نے 144 , ارب کا ریلیف پیکیج عوام کو دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام کو پی ٹی آئی کی حکومت مکمل ریلیف فراہم کر رہی ہے،سندھ حکومت نے عوام کو راشن کے بجائے صرف بھاشن دیئے ہیں،وزیر اعلی سندھ کو اپنے پاؤں سے زمین کھستی نظر آہی ہے،سندھ کی عوام سراپا احتجاج اور پوچھ رہی ہے کہ ووٹ دیا حکومت نے عوام کو کیا دیا؟ پیسے وفاقی حکومت دے رہی ہے ،سینٹرز پر انتظامات کرانا سندھ حکومت کا کام ہے،سندھ میں زیادہ پیپلزپارٹی کے ووٹرز ہیں , تو کیا ثانیہ نشتر آکر لائینیں سیدھی کرائے؟ سندھ حکومت کے عوام کا خیال نہیں ہے , سینٹرز پر انتظامات کرانا ان کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ روز قبل ہی ستر ہزار سے زائد کرونا کٹس وفاق نے سندھ کو 19 اپریل کو بھجوائی ہیں،سندھ کے 202 ہسپتالوں میں وفاق نے کورونا سے بچاؤ کا مکمل سامان بھجوایا ہے. اس قبل بھی کٹیں اور سامان دیا ہے پھر بھی سندھ حکومت رونا رو رہی ہے, کہ وفاق نے کچھ نہیں کیا،سندھ حکومت چاہتی ہے کہ اربوں روپے ان کو دیئے جائیں تاکہ ہڑپ کر جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی سول کے آئیسولیشن وارڈ میں بلیاں گھوم رہی ہیں، ایک بچی کو مردوں کے وارڈ میں رکھا گیا. ہسپتالوں میں انتظامات مکمل نہیں ہے، کرونا مرض ان کی غفلت سے پھیل رہا ہے, لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں، عوام کورونا سے کم اور بھوک سے زیادہ مر رہی ہے،ہم بیچ کاراستہ نکالنا چاہتے تھے لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنی مرضی چلائی ہے، 20 لاکھ خاندانوں کو راشن دینے کا اعلان کیا تھا سندھ حکومت اب خود کہہ رہی ہے تین لاکھ لوگوں کو راشن دیا جو راشن دیا ہے , کافی شہروں سے ایکسپائر سامان کی شکایات آرہی ہیں. سندھ حکومت کے لوگوں نے غریب عوام کے راشن کو بھی نہیں چھوڑا، اس میں بھی کرپشن کی ہے۔
Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.