ن لیگ کا کورونا کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار،مزید وقت ضائع کئے بغیر ایک جامع قومی حکمت عملی بنانے پر زور ,,,,,,,,,............

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے ملک میں کورونا وبا کے پھیلاؤپر گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہر شعبے میں حکومتی فیصلہ سازی میں تذبذب عیاں ہے، مزید وقت ضائع کئے بغیر ایک جامع قومی حکمت عملی بنائی جائے کیونکہ قومی حکمت عملی کی عدم موجودگی کی سزا عوام بھگت رہی ہے. مقبوضہ جموں وکشمیر کے بہادر بھائیوں، بہنوں سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں رہنے والوں کو کورونا وباسے بچانے کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے, عالمی قوانین، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کراتے ہوئے, اس سلسلے میں انسانی زندگی کے تحفظ کے تقاضے پورے کئے جائیں،زراعت اور کسانوں کے لئے خصوصی پیکیج دیا جائے۔ گندم کی کٹائی، ترسیل اور خریداری کے لئے حکمت عملی بنائی جائے، بیرون ملک پھنسے ہوئے ان پاکستانیوں کے اہل خانہ شدید پریشان ہیں،حکومت عملی اقدامات کرتے ہوئے , ان پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لائے اور ان کی کونٹین اور دیگر ضروری اقدامات کو یقینی بنائے، نیب نیازی مذموم گٹھ جوڑ کی شدید مذمت کرتے ہیں، شہبازشریف کو دوبارہ طلبی کا نوٹس قانون، انصاف اور بنیادی حقوق کی صریحا ًخلاف ورزی ہے، نیب وزیراعظم عمران خان کے سیاسی انتقام کی تسکین کا ذریعہ بنا ہوا ہے،حکومتی سکینڈلز کو نظر انداز کرتے ہوئے, نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نشانہ صرف شریف خاندان، مسلم لیگ (ن)، اپوزیشن اور میڈیا بنا ہوا ہے جو قابل مذمت اور افسوسناک ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی زیرصدارت جمعرات کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی۔ای۔سی) کا وڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد ہوا جس میں درج ذیل قرار داد منظور کی گئی۔اجلاس ملک میں کورونا وبا کے پھیلاو پر, گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیتا ہے کہ ہر شعبے میں حکومتی فیصلہ سازی میں تذبذب عیاں ہے،مزید وقت ضائع کئے بغیر ایک جامع قومی حکمت بنائی جائے کیونکہ قومی حکمت عملی کی عدم موجودگی کی سزا عوام بھگت رہی ہے۔اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر کے بہادر بھائیوں، بہنوں سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے , کہ مقبوضہ وادی میں رہنے والوں کو کورونا وباسے بچانے کے لئے, اقدامات کو یقینی بنائے۔ عالمی قوانین، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کراتے ہوئے اس ضمن میں انسانی زندگی کے تحفظ کے تقاضے پورے کئے جائیں
اجلاس بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاو کا ذمہ دار قرار دینے اور اسلام مخالف جذبات بھڑکانے کی انتہاپسند جنونی تنظیم آر ایس ایس کے زیر اثر بی جے پی حکومت کی سوچی سمجھی سازش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں کورونا سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے مرحومین کے لئے دعا مغفرت کرتا ہے۔ اجلاس آزاد ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن، ان کے وزرااور دیگر تمام ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ انہوں نے کورونا وبا سے نمٹنے, میں قابل فخر اور قابل تقلید اقدامات کئے۔ اجلاس کورونا کے خلاف جنگ میں سندھ حکومت کی کاوشوں کو بھی سراہتا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے , کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کورونا سے نمٹنے اور دیگر منسلکہ امور کے ضمن میں کوئی ہم آہنگی، تعاون اور اشتراک عمل دکھائی نہیں دے رہا ۔ قوم کی جان بچانے کے لئے وفاق بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے صوبوں کی ضروریات، وسائل اور دیگر مطلوبہ سامان کی دستیابی وفراہمی میں بھرپور کردار ادا کرے۔
اجلاس قرار دیتا ہے کہ لاک ڈاؤن پر واضح پالیسی اپنانے کے ساتھ متبادل معاشی حکمت تیار کی جائے۔ موجودہ حکومت اپنے موقف کی طرح معاشی اقدامات بھی بار بار تبدیل کررہی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے , کہ حکومت کے پاس کوئی واضح معاشی حکمت عملی یا خاکہ موجود نہیں ۔ کورونا کی وجہ سے دنیا میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کے سنگین اثرات کے مقابلے کے لئے جلد ازجلد ٹھوس حکمت عملی بنانا ہوگی جو قومی سلامتی اور قومی مفادات کی حفاظت کے تقاضے پورے کرسکے۔ اجلاس حکومت کی گزشتہ 18 ماہ کی معاشی بدانتظامی، نالائقی اور نااہلی کورونا وباپر ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ کورونا سے پہلے ہی موجودہ حکومت معیشت تباہ کرچکی تھی , اور کورونا وبانے معاشی بحران کو مزید سنگین بنادیا۔ افسوسناک اور قابل مذمت امر ہے کہ کورونا وبا کے بعد حکومت نے معاشی پالیسی کو آوٹ سورس کردیا ہے۔
اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ زراعت اور کسانوں کے لئے خصوصی پیکیج دیا جائے۔ گندم کی کٹائی، ترسیل اور خریداری کے لئے حکمت عملی بنائی جائے۔ ہماری 75 فیصد آبادی کا مسکن دیہی علاقوں میں کورونا سے بچاو کے لئے , اب تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جو تشویشناک ہے۔اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی بہت بڑی کمی کا فائدہ فی الفور عوام تک پہنچایاجائے اور پٹرول ڈیزل ,50 روپے فی لٹر کیاجائے جبکہ بجلی اور گیس کی قیمت پچاس فیصد یا ایک تہائی کم کی جائے۔ اجلاس افسوس ظاہر کرتا ہے کہ مزدور، دیہاڑی دار اور غریب طبقات کو ریلیف اور امداد نہیں مل رہی۔ امداد کی فراہمی کے لئے جو مناظر سامنے آئے ہیں، وہ ناقابل قبول ہیں۔ حکومت ٹائیگر فورس جیسے سیاسی تماشے چھوڑ کر غریب عوام کو امداد اور ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے لوکل گورنمٹ کے نظام کو استعمال کرے , اور انسانی مسئلے پر سیاست بند کرے
اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ڈاکٹرز، طبی عملے کو حفاظتی کٹس اوردیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ افسوسناک امر ہے کہ اب تک یہ ضروری ساز وسامان ڈاکٹرز اور طبی عملے کو نہیں پہنچ سکا۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کا کورونا سے متاثر ہونا انتہائی خطرناک علامت ہے۔ ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن سولجرز ہیں۔ یہ حفاظتی فصیل گرگئی تو خدانخواستہ کورونا تباہی مچا دے گا۔ اجلاس بیرون ملک کورونا سے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے , حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ مجرمانہ تساہل پسندی کے نتیجے میں بیرون ملک پھنسے ہوئے ان پاکستانیوں کے اہل خانہ شدید پریشان ہیں ۔ حکومت عملی اقدامات کرتے ہوئے , ان پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لائے اور ان کی کونٹین اور دیگر ضروری اقدامات کو یقینی بنائے۔ اجلاس وزیراعظم عمران نیازی اور عثمان بزدار کو آٹا چینی سکینڈل کا اصل ذمہ دارقرار دیتے ہوئے جناب شاہد خاقان عباسی صاحب اور انجینئر خرم دستیگر خان صاحب کے تحقیقاتی کمشن میں پیش ہونے کے پارٹی کے فیصلے کی توثیق کرتا ہے۔ اجلاس پارلیمان کا اجلاس بلانے اور اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ریکوزیشن جمع کرانے کے اقدام کی تائید کرتا ہے۔
اجلاس میڈیا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی صدر شہبازشریف کی جانب سے میڈیا کے لئے پیکج اور بلاسود قرض دینے کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کے اختیارات عدلیہ، انتظامیہ اور پارلیمنٹ میں تقسیم ہیں جبکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون تصور ہوتا ہے۔ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ میڈیا اس وقت بدترین سینسرشپ اور معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ لاکھوں خاندان اس معاشی بحران کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ میڈیا ورکرز اور صحافیوں سمیت اس صنعت سے وابستہ ایک بڑی آبادی غیریقینی اور فکرمندی کا شکار ہے۔ ایک طرف میڈیا کی آئینی آزادیاں سلب کی جارہی ہیں تو دوسری جانب ان کو شدید معاشی دباو کا بھی شکار کیاجارہا ہے ۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ میڈیا کے خلاف متعصبانہ، دباو اور جبر کے حکومتی ہتھکنڈے ختم کئے جائیں، میر شکیل الرحمن کو فوری رہا کیاجائے، میڈیا کے واجبات فی الفور ادا کئے جائیں. میڈیا کو حفاظتی کٹس دی جائیں، پریس کلبز اور میڈیا ہاوسز کو وائرس کی وباسے بچانے کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔ نیز تنخواہوں اور , دیگر واجبات کی ادائیگی کی خاطر بلاسود قرض کے اجراکو جلد ممکن بنایاجائے تاکہ میڈیا ورکرز کی پریشانی ختم ہو۔
اجلاس نیب نیازی مذموم گٹھ جوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سمجھتا ہے کہ پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کو دوبارہ طلبی کا نوٹس قانون، انصاف اور بنیادی حقوق کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ اجلاس حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ نشاندہی کرنا چاہتا ہے کہ شہبازشریف کے , 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب پر نیب کا دو منٹ میں ردعمل دینا .اس ذہن کو عیاں کرتا ہے جو صرف سزا دینے، کردار کشی کرنے اور قانون وانصاف کے تقاضوں کے برعکس انتقامی رویہ کا حامل ہے۔ جناب شہبازشریف کنسر کی سرجری سے گزر چکے ہیں، ان کے معالجین اور ڈاکٹرز نے کورونا وبامیں انہیں سختی سے احتیاط اور بچاو کی ہدایت کررکھی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود نیب کا طرز عمل ثبوت ہے کہ معاملہ جواب یا دستاویزات کا نہیں بلکہ کسی کی سیاسی انتقام کی تسکین کا ہے۔
اجلاس یہ بھی ریکارڈ پر واضح کرنا چاہتاہے کہ نیب وزیراعظم عمران خان کے سیاسی انتقام کی تسکین کا ذریعہ بنا ہوا ہے،حکومتی سکینڈلز کو نظر انداز کرتے ہوئے نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نشانہ صرف شریف خاندان، پاکستان مسلم لیگ (ن)، اپوزیشن اور میڈیا بنا ہوا ہے, جو قابل مذمت اور افسوس ناک ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ نیب قانون میں ترمیم کی جائے , اور اسے آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔
Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.