Skip to main content

سندھ حکومت کورونا کے معاملے پر سیاست کررہی ہے: ایم این اے لال مالھی ............


سندھ حکومت کورونا کے معاملے پر سیاست کررہی ہے: ایم این اے لال مالھی


عمرکوٹ  (سید ریحان شبیر )  گرینڈ ڈیموکریٹس الائنس"جی ڈی اے  " سندھ کےرہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم , اور پاکستان تحریک انصاف کی ایم این اے لال مالھی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کورونا کےمعاملے پر سیاست کررہی ہے ۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ اور جی ڈی اے کے رہنما ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نےکہا کرپٹ مافیا اپنی کرپشن بچانے کےلیے,  وزیراعظم عمران خان کےخلاف اکھٹے ہوچکے ہیں. ایک سوال کےجواب میں ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نےکہا کہ وہ پاکستان میں گڈ گورننس کےلیے آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کی بحالی کےحق میں ہے , اٹھاون ٹو بی شق کی بحالی سے گڈ گورننس کو قائم اور آمریت مارشلا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔

انہوں کا مزید کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کےتحت حقیقی معنوں میں صاف شفاف طریقے سے غریب ضرورت مند صیح مستحقین کی مدد کی ہے فری اینڈ فیئر طریقے سے لوگوں کی مدد کی جاری ہے , میڈیا کےایک سوال کےجواب میں ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری بیمار ہے, اور وہ آصف علی زرداری کی صحت کےلیے دعاگو ہے ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری میرے ذاتی دوست بھی ہے۔

ارباب غلام رحیم نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کورونا اور لاک ڈاؤن کےمعاملے پر سیاست نہ کریں تحریک انصاف کےایم این اے لال مالھی نےکہا کہ,  وزیراعظم عمران خان نے جو کہا وہ کردکھایا قوم کے ساتھ وزیراعظم نےایک اور وعدہ پورا کیا وفاقی حکومت نے احساس کفالت پروگرام کےتحت ایک ارب روپے پچاسی  ہزار, افراد میں تقسیم کیےگئے .  ایم این اے لال مالھی نےکہا کہ بہت جلد وفاقی حکومت کی جانب سے غریب نادار مستحقین میں راشن کی تقسیم کا سلسلہ صاف شفاف طریقے سے شروع کیا جائے گا

لال مالھی نےالزام لگاتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے مقامی نمائندے اپنے اپنے مخصوص لوگوں میں راشن تقسیم کررہے ہیں , ایم این اے لال مالھی نےکہا کہ پولیس لاک ڈاؤن کےبہانے چھوٹے دوکانداروں کی تذلیل کررہی ہے جس کی میں مذمت کرتا ہوں پولیس چھوٹے دوکانداروں کو تھانے لےجا کرتنگ کرتی ہے , اور کہتی ہےکہ پی پی ایم پی اے سے فون کراوں لال مالھی نےکہامیں پولیس سے کہتا ہوں کہ لوگوں کی عزت نفس کو برقرار رکھے . ایم این اے لال مالھی نےکہا پیپلزپارٹی کےکارکنان نے احساس کفالت مراکز پر بی آئی ایس پی کے بینر لگارہے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔