Skip to main content

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ا طلاعات کا اجلاس ،حکومت سے حیران کن تفصیلات مانگ لی گئیں ...............

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ا طلاعات کا اجلاس ،حکومت سے حیران کن تفصیلات مانگ لی گئیں



اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیئے اٹھائے گئے , اقدامات کی تفصیلات حکومت سے طلب کرلیں جبکہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بھی حکومت سے بریفنگ طلب کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کا اجلاس چیئرمین میاں جاوید لطیف کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی اراکین کے علاوہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین پیمرا اور ایم ڈی پی ٹی وی نے شرکت کی جبکہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا وبا سے متاثر ہے,  اور پاکستان بھی متاثر ہوا ہے، لاک ڈاؤن کے حوالہ سے مختلف آرا ہیں، حکومت اس پر بریفنگ دے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیا نے مجموعی طور پر کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، مخیر حضرات کو احساس دلانے، آگاہی اور حکومتی خامیوں کو دور کرنے کیلئے بھی میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے,  آج کے اجلاس کا مقصد یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد یہ بھی ہے کہ پل کا کردار ادا کرتے ہوئے , کورونا سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے اپنا کردار کریں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب کو یکجہتی سے مل کر اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے، معاون خصوصی نےکہا کہ جب تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کےساتھ ایس او پیز طےہوئے ہیں ان پر عملدرآمد بھی سب کی ذمہ داری ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ 472 یومیہ ٹیسٹ اور دو لیبارٹریوں کی گنجائش تھی، اب یومیہ 8 ہزار ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور , 60 لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں. چین سے بھی ماہرین بلا کر عملے کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18, ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات ہیں، انہوں نے اپنے ایس او پیز خود بنانے تھے۔ انہوں نے کہا , کہ ہمارے ملک کا انحصار 70 فیصد زراعت پر ہے,  اور زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے اس لئے لاک ڈاؤن کو نرم رکھا گیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔