اجتماعی زیادتی کا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ کے نواحی گاؤں میں دوران ڈکیتی خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والا ڈاکو مبینہپولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا،پولیس کا کہنا ہے
کہ ہلاک ڈاکو کی شناخت اکرم عرف اووڈ کے نام سے ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکو کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال اوکاڑہ منتقل کر دیا گیا۔
ڈی پی او اوکاڑہ کا کہنا ہے کہ ڈکییتی کی واردات میں شامل 7 میں سے 4 ڈاکوؤں نے نورین فاطمہ نامی خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔جس کے بعد واقعے کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے شوہر خالد کی مدعیت میں درج ہوا تھاڈکیتی کے دوران خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جیپنجاب نے نوٹس بھی لیا تھا
واقعے میں ملوث 6 ڈاکوؤں کی گرفتاری ابھی مطلوب ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب موٹروے زیادتی کیس کا ملزم تاحال فرار ہے اور پولیس اسے پکڑنے میں ناکام ہے۔ موٹروے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے پولیس کو بیان دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس نے متاثرہ خاتون کو بیان دینے پر راضی کیا جس کے بعد خاتون کا ابتدائی بیان بذریعہ ٹیلی فون لیا جائے گا، اس کے علاوہ متاثرہ خاتون کے 161 کے ابتدائی بیان کا ٹرانسکرپٹ چالان کے ساتھ منسلک ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس عدالت سے ان کیمرہ ٹرائل کی درخواست کرے گی اور دوران ٹرائل متاثرہ خاتون کا فرضی نام استعمال کیا جائے گا، اس کے علاوہ متاثرہ خاتون نے ملزم شفقت علی کی شناخت کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کردی ہے

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.